مکینک کے بیٹے کی افسر بننے کی کہانی


پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے زوہیب قریشی کے لیے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنا کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ ایک مشکل اور تکلیف دہ سفر تھا۔ ہر قدم پر انھیں نئی مشکل اور پہلے سے زیادہ جدوجہد کا سامنا رہا۔

سنہ 2019 کے سینٹرل سپیریئر سروس کے امتحانات کے نتائج میں وہ میرٹ لسٹ پر 260ویں نمبر پر آئے۔ اکتوبر سے شروع ہونے والی تربیت مکمل کرنے کے بعد وہ ان لینڈ اینڈ ریونیو کے محکمے میں اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

زوہیب قریشی نے اپنی کہانی صحافی زبیر خان کو سنائی ہے۔ سنیے ان کی کہانی ان کی ہی زبانی۔

میرے بچے بھی افسر بنیں گے

’میرے بابا عبدالطیف قریشی لاڑکانہ کے مشہور موٹر مکینک تھے۔ لاڑکانہ اور گرد و نواح کے تمام بڑے لوگ اور افسر ان سے اپنی گاڑیاں ٹھیک کروایا کرتے تھے۔

’ہمارا گھر ہمارے گیراج کی بالائی منزل پر تھا۔ بچپن ہی میں دیکھا کہ بابا اور امی ہمیشہ یہ بات کرتے تھے کہ ہم تینوں کو خوب پڑھائیں گے اور یہ بڑے افسر بنیں گے۔

Comments