انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں پولیس کی حراست میں ایک باپ اور بیٹے کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تمل ناڈو میں جہاں ابھی کورونا وائرس کی وجہ سے حفاظتی اقدامات جاری ہیں وہاں 58 سالہ پی جے راج اور ان کے 38 سالہ بیٹے فینکس کو پولیس نے مقررہ وقت سے زیادہ دکان کھلی رکھنے پر گرفتار کر لیا تھا۔
باپ بیٹا دونوں کو پولیس نے رات بھر اپنی تحویل میں رکھا جس کے دو دن بعد کچھ گھنٹوں کے وقفے سے دونوں کی موت واقع ہو گئی۔
ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں کے بقول دونوں کو پولیس کی حراست میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
ان کی موت کے بعد سے کیا ہوا ہے؟
باپ اور بیٹے پر دورانِ حراست مبینہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی تفصیلات جب سامنے آنا شروع ہوئیں تو لوگوں میں غم اور غصہ بڑھنے لگا اور انہوں نے پولیس کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ شروع کر دیا۔
ریاستی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ارکان احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے۔ تاجروں کی ایک نمائندہ تنظیم نے پولیس کی مذمت کی ہے اور ایک مقامی عدالت نے اس واقع پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہلاک ہونے والے باپ اور بیٹے کو گرفتار کرنے والے دو پولیس اہلکاروں کو تبدیلی کر دیا گیا ہے اور ریاستی حکومت نے ہلاک شدگان کے لواحقین کو دس لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس واقع کا شور سوشل میڈیا پر بھی سنائی دینے لگا جس کے بعد پورے ملک سے اس پر شدید رد عمل سامنے آنے لگا۔
کس قسم کا رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے؟
ابتدا میں بہت سے لوگوں نے یہ سوال اٹھنا شروع کیا کہ ان دونوں باپ بیٹے کی موت پر اتنی خاموشی کیوں ہے اور کوئی احتجاج کیوں نہیں کیا جا رہا جبکہ امریکہ میں ایک سیاہ فام جارج فولائڈ کی موت پر بہت بڑی تعداد میں انڈین شہری سوشل میڈیا پر اپنے رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ جارج فولائڈ کی موت بھی پولیس کی جانب سے طاقت کے بےجا استعمال سے واقع ہوئی تھی۔
انڈیا میں سوشل میڈیا کے صارفین کی ایک بڑی تعداد سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شہری کی ہلاکت کی مذمت کر رہے ہیں اور اس واقعہ کے خلاف ہونے والے احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں۔
تمل ناڈو کی ریاست کے ایک دور دراز قصبے میں پیش آنے کی وجہ سے باپ بیٹے کی ہلاکت کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کی خبر پھیلنے میں دیر لگی اور قومی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر آنے میں تاخیر ہوئی۔
لیکن گزشتہ چند دنوں سے اس واقعہ پر بحث جاری ہے اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر شدید رد عمل سامنے آ رہا ہے۔
ایک ویڈیو جس کو دس لاکھ سے زیادہ صارفین دیکھ چکے ہیں اس میں ایک صارف نے کہا ہے کہ وہ اس بات سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں کہ جو کچھ جنوبی انڈیا میں ہوا ہے اس پر بات کیوں نہیں کرتے کیوں کہ یہ انگریزی زبان میں نہیں ہے اور اس کے بعد انہوں نے مرنے والے باپ بیٹے پر ہونے والے تشدد کی تفصیلات فراہم کیں۔
اس بات پر بھی شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور اجتجاج بھی کیا جا رہا ہے کہ ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ کیوں نہیں درج کیا گیا۔
مشہور اور اہم شخصیات جیسا کہ حزب اختلاف کے رہنما راہول گاندھی اور مقبول کرکٹر شیکر دہون نے بھی اس معاملے پر ٹوئٹر پیغام جاری کیے ہیں۔
انڈیا میں پولیس کی بربریت کے واقعات
ان واقعات کی تعداد حیران کن ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں کے ایک گروہ نے زیر حراست اموات اور تشدد کے بارے میں ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس میں صرف سنہ 2019 میں 1731 افراد کی اموات پولیس کی حراست میں ہوئیں۔ اس حساب سے اوسطً ہر روز انڈیا میں پانچ افراد پولیس کی حراست میں ہلاک ہوتے ہیں۔
اس رپورٹ میں ایذا رسانی کے مختلف طریقے بھی بیان کیے گئے ہیں جو پولیس استعمال کرتی ہے۔
پولیس نے ملزمان پر تشدد کر کے ان سے اعترافی بیان لیا جانا عام ہے۔ جو پولیس اہلکار ملزمان پر تشدد کرتے ہیں ان کو کبھی بھی سزا نہیں دی جاتی اور اکثر اوقات انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیج دیا جاتا ہے۔
سنہ 2016 میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ریاستی حکومتوں کو پولیس کے خلاف شکایت درج کرنے کے لیے ادارے بنانے چاہیں تاکہ عام لوگوں کی پولیس کے خلاف داد رسی ہو سکے۔
Comments
Post a Comment