'طوفانی باد و باراں سمندر کے پانی کو شہر میں لے آیا تھا، طوفان گرجدار آواز میں دھاڑ رہا تھا، کلیساؤں کی چھتیں ہوا میں منتشر ہوگئیں تھیں اور بھاری بھاری پتھر دور دور تک کنکریوں کی طرح ہوا میں اڑ رہے تھے۔ دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔'
اس انداز میں ایک پرتگالی مورخ نے ممبئی کی تاریخ کے ایک بدترین سمندری طوفان کا احوال بیان کیا ہے جو کہ مئی1618 میں ممبئی کے ساحلوں سے ٹکرایا تھا۔ سترہویں اور انیسویں صدیوں میں انڈیا کے اس مغربی ساحلی شہر سے کئی مرتبہ سمندری طوفان ٹکرائے ہیں۔ ممبئی میں سنہ 2005 میں شدید بارشوں کی وجہ سے سیلاب آیا تھا اور صرف تین برس پہلے، سنہ 2017 میں بھی مون سون کی موسلا دھار بارشیں برسی تھی، لیکن ان میں سے کوئی بھی سمندری طوفانوں کا نتیجہ نہیں تھی۔
تیزی سے بڑھتا ہوا یہ شہر جو کہ انڈیا کی مالیاتی سرگرمیوں اور فلمی صنعت کا دارالحکومت ہے، جدید دور میں سمندری طوفانوں سے تاحال محفوظ رہا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر ایڈم سوبل کہتے ہیں کہ ممبئی کو 'سنہ 1891 کے بعد سے شدید سمندری طوفان کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔'
لیکن اگر بدھ کو 100 سے 120 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سمندری طوفان انڈیا کے مغربی ساحل سے ٹکرائے گا تو نئی تاریخ رقم ہوگی۔
انڈیا کے محکمہِ موسمیات شدید بارشوں، تیز ہواؤں، سمندر میں طوفانی لہروں اور سمندری طوفان کی پیشن گوئی کر رہا ہے جس سے ممبئی کے نشیبی علاقوں میں سیلاب آ سکتا۔ محکمے کے مطابق یہ سمندری طوفان اتنا ہی شدید ہو سکتا ہے جتنا کہ سائیکلون امپھان تھا جس نے تقریباً دو ہفتے قبل مغربی بنگال میں تباہی مچا دی تھی اور 90 افراد کو ہلاک کیا تھا۔
پروفیسر سوبل جنھوں نے ممبئی کی سمندری طوفانوں سے نمٹنے کی صلاحیت پر ریسرچ کی ہوئی ہے، کہتے ہیں کہ تازہ ترین تسلسل کے لحاظ سے یہ سمندری طوفان جس کا نام سائیکلون نِسرگ رکھا گیا ہے، '110 فی کلو میٹر کی رفتار تک اپنے عروج پر پہنچے گا۔'
پروفیسر سوبل کہتے ہیں کہ اس طوفان کے راستے سے متعلق پیش گوئی ممبئی کے لیے بری ہے، لیکن شدت کی پیشن گوئی گزشتہ بارہ گھنٹوں کے مقابلے میں بہتر ہے جب اندازوں کے بعض ماڈل یہ پیشن گوئی کر رہے تھے کہ اس کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔'
'اس لیے بدترین تباہی کے امکانات اب کافی حد تک کم ہو گئے ہیں۔ لیکن ایک سمندری طوفان اب بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، اس کے لیے لوگوں کو تیار رہنا چاہیے۔ اور اس دوران حالات کے بدلنے کے لیے اب بھی کچھ وقت ہے۔ اس لیے اس علاقے میں ہر شخص کو موسمیاتی پیشن گوئیوں پر مسلسل نظر رکھنی چاہیے۔ ممبئی کو خطروں کی درجہ بندی کے لحاظ سے 'زرد' درجہ بندی میں رکھا گیا ہے جس میں 'بعض علاقوں میں انتہائی شدید بارشوں سے لے کر بہت شدید بارشوں کے امکانات ہوں گے۔'
ماہرین کے مطابق جو بات ممبئی کو بہت زیادہ غیر محفوظ بناتی ہے وہ اس کا مختصر سے جگہ میں انتہائی گنجان آباد ہونا ہے یعنی کثیر تعداد میں آبادی کا ایک جگہ مرکوز ہونا ہے۔ شہر کے نشیبی علاقے ذرا سے خراب موسم یا سمندری طوفان کی صورت میں بہت تیزی سے زیرِ آب آسکتے ہیں۔ اس مرتبہ یہ شہر کووِڈ-19 کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے، ریاست مہاراشٹر جس کا ممبئی دارالحکومت ہے، وہاں پوری ریاست کے ایک تہائی متاثر مریض درج کیے گئے ہیں۔
موسمیاتی مسائل کے موضوعات پر لکھنے والے ناول نگار امیتاو گھوش کہتے ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں سے بحیرہِ عرب میں سمندری طوفانوں کے پیدا ہونے کے واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 2012 کے ایک ریسرچ مقالے میں یہ پیشن گوئی کی گئی تھی کہ صدی کے اختتام تک بحیرہِ عرب کے سمندری طوفانوں میں 46 فیصد اضافہ ہوگا۔ اور سنہ 1998 اور 2001 کے درمیان شمالی ممبئی سے تین سمندری طوفان ٹکرائے تھے جن کے نتیجے میں 17000 افراد ہلاک ہوئے۔
سائیکلون نسارگا کا ممکنہ راستہ
اپنی کتاب 'دی گریٹ ڈیرینجمنٹ: کلائمیٹ چینج اینڈ ان تھنک ایبل' میں امیتاو گھوش حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُس وقت کیا ہو گا جب ممبئی سے کیٹیگری 4 یا کیٹیگری 5 کا سمندری طوفان ٹکرائے گا جس کی رفتار 240 فی کلو میٹر یا اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ 'اس سے پہلے ممبئی کو جب ایک بڑے سمندری طوفان کا سامنا کرنا پڑا تھا تو اس وقت اس شہر کی کل آبادی دس لاکھ سے کم تھی۔ آج یہ دنیا کا آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا میونسپل شہر ہے جس کی دو کروڑ سے زیادہ آبادی ہے۔'
وہ کہتے ہیں 'شہر میں اس طرح کی آبادی کے اضافے سے اس شہر کا ماحول بھی بدل گیا ہے، اس لیے یہاں کا موسم، جسے کسی قسم کا استثنیٰ نہیں ہے، اس پر شدید قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں: مثال کے طور پر مون سون کی بارشوں کے دوران شہر میں شدید سیلاب آجاتے ہیں۔'
گھوش کے مطابق، 'بعض خصوصی حالات میں تو اس کے بہت تباہ کن نتائج نکلتے ہیں۔'
اس طرح کی تباہی کا سامنا اس شہر کو کچھ عرصہ پہلے کرنا پڑا تھا اور اس وقت تو سمندر طوفان بھی نہیں آیا تھا۔
جولائی سن 2005 میں ممبئی کو اپنی تاریخ کی ایک دن کی شدید ترین بارشوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس دن 14 گھنٹوں میں 94.4 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔
ان بارشوں سے آنے والے سیلاب میں سڑکیں زیرِ آب آگئیں تھیں، تمام ذرائع آمد و رفت اور بجلی کا نظام دھرم برہم ہوگیا تھا، لاکھوں لوگوں کی زندگی مفلوج ہوگئی تھی۔ 500 سے زیادہ افراد بہہ گئے، ڈھہ جانے والی عمارتوں میں دفن ہوگئے، بجلی سے ہلاک ہوگئے یا پانی میں پھنس جانے والی گاڑیوں میں دم گھٹنے سے مر گئے تھے۔
Comments
Post a Comment