زہرہ تشدد کیس: ملزمان سے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ!


پاکستان کے شہر راولپنڈی کی مقامی عدالت کے جج نے آٹھ سالہ کمسن گھریلو ملازمہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کرنے کے بعد اسے قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے میاں بیوی کے جسمانی ریمانڈ میں تین روز کی توسیع کرتے ہوئے پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

عدالت نے ملزمان کو 12 جون کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ ملزم اور ان کی اہلیہ ملزمہ اُم کلثوم نے پالتو پرندے اڑانے کی پاداش میں 31 مئی کو آٹھ سالہ زہرہ بی بی کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے باعث اس کی ہلاکت ہوئی۔

ملزمان کے خلاف مقتولہ کے دادا فضل حسین کی طرف سے دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے ان کی پوتی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

منگل کے روز ملزمان کو پولیس کے سخت حفاظتی حصار میں مقامی عدالت کے جج حنیف خان کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر محمد مختار نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے اب تک جو تفتیش کی گئی ہے اس میں بہت سے انکشافات ہوئے ہیں جن کی جانچ پڑتال اور تفتیش کے لیے مزید وقت چاہیے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ملزمان نے تفتیش کے دوران جو بیانات دیے ہیں ان کی سچائی کو جانچنے کے لیے ملزمان کا پولی گراف ٹیسٹ کروایا جانا ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق راولپنڈی میں ملزمان کے پولی گراف ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں ہے اس لیے ملزمان کو لاہور لے کر جانا پڑے گا۔

تفتیشی افسر نے عدالت سے ملزمان کے مزید پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں صرف تین دن کی توسیع کی۔

تفتیشی افسر محمد مختار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان کو 10 جون کو لاہور لے جایا جائے گا جہاں ان کا پولی گراف ٹیسٹ ہو گا اور امکان ہے کہ اسی روز ہی رپورٹ مل جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ابھی ملزمان کے زیر استعمال موبائل فون کا فرانزک بھی کروانا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب کے جنوبی شہر ملتان کی رہائشی اور سوشل میڈیا سیلبرٹی قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کا بھی پولی گراف ٹیسٹ لیا گیا تھا اس کے علاوہ جہلم میں پاکستانی نژاد برطانوی لڑکی کے قتل میں ملوث ملزمان کا بھی پولی گراف ٹیسٹ کروایا گیا تھا۔

تفیشی افسر کے مطابق درخواست گزار کی طرف سے جو ملزم پر ریپ کا الزام عائد کیا گیا ہے اس پر بھی ملزم کا ٹیسٹ کروایا جائے گا تا کہ اس الزام کی حقیقت کے بارے میں شواہد حاصل کیے جاسکیں۔

زہرہ قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران اس مقدمے کی مدعی فضل حسین کے وکیل اسد بخاری نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی طرف سے ان کے موکل کو مقدمہ واپس لینے کے لیے شدید دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے موکل کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔

مدعی مقدمے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک متعقلہ پولیس نے اس مقدمے میں قتل کی دفعات کا اضافہ نہیں کیا تاہم اس مقدمے کے تفتیشی نے اس مقدمے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جس میں تفتیشی افسر کے بقول قتل کی دفعات کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

مقدمے کے مدعی نے ملزم کے خلاف جو متعقلہ تھانے میں درخواست دی ہے اس میں ملزم کے ایک سابق ملازم محمد نعیم کے بیان کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے قبل بھی ملزم ایک کمسن گھریلو ملازم کے سر پر جگ مار کر اس قتل کر چکا ہے۔

ملزم کے بارے میں تھانہ روات پولیس کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق ضلع چکوال سے ہے اور کافی عرصہ سعودی عرب میں مقیم رہا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق ملزمہ کو وویمن پولیس سٹیشن میں رکھا جاتا ہے اور وہیں پر ہی ان سے تفتیش کی جارہی ہے تاہم جب مقامی پولیس کے حکام سںے یہ پوچھا گیا کہ کیا اس تفتیشی عمل میں کوئی خاتون پولیس افسر بھی شامل ہے تو حکام کا کہنا تھا کہ تفتتیشی افسر تو نہیں البتہ خاتون پولیس اہلکار تفتیش کے دوران کمرے میں موجود ہوتی ہے۔

Comments