بل گیٹس کووڈ 19 سے متعلق سازشی نظریات کا مرکز کیسے بنے؟


یہ سنہ 2015 کی بات ہے جب ایک دن اپنی منکسر مـزاجی کے لیے مشہور بِل گیٹس کورونا وائرس کے موضوع پر بات کرنے کے لیے سٹیج پر آئے تاکہ وہ لوگوں کو آنے والے ممکنہ خطرے سے خبردار کر سکیں۔ وہ اس شام ’ٹیڈ ٹاک‘ کے مہمان مقرر تھے۔

اس موقع پر بِل گیٹس نے کہا کہ ’اگر اگلے چند عشروں میں کوئی چیز ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کرتی ہے تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ جنگ نہیں بلکہ کوئی نہایت خطرناک وائرس ہو گا۔‘

اس وقت بی بی سی سمیت کچھ ذرائع ابلاغ نے بِل گیٹس کی تقریر پر چھوٹی موٹی خبر تو کی، لیکن زیادہ تر لوگوں نے اس پر زیادہ توجہ نہ دی۔

تاہم حالیہ دنوں میں ان کی اس تقریر کی ویڈیو کو چھ کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کی دلچسپی کا مرکز ان کی تقریر نہیں، بلکہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر بِل گیٹس نے اتنے برس پہلے دنیا کو وائرس سے خبردار کیا تھا، یعنی بل گیٹس کو کیسے پتا تھا کہ کوئی خطرناک وائرس آنے والا ہے۔

کچھ لوگوں کا الزام ہے کہ بِل گیٹس دنیا کی اشرافیہ کے نمائندے ہیں اور باقی لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کے رہنما ہیں جن کی کوشش ہے کہ کسی طرح دنیا کی آبادی کو کم کیا جائے۔

ایک بڑی اکثریت کا الزام ہے کہ وہ نہ صرف مختلف بیماریوں کی ویکسین کو لازمی قرار دینا چاہتے ہیں بلکہ ان کی کوشش ہے کہ لوگوں کے جسم میں مائیکرو چِپ لگا دی جائے۔

صحت عامہ کی علامت

جعلی خبروں پر تحقیق کرنے والی ویب سائٹ ’فرسٹ ڈرافٹ نیوز‘ سے منسلک روری سمتھ کہتے ہیں کہ بِل گیٹس کے بارے میں بہت سے سازشی نظریات مشہور ہیں۔

ان کے بقول بِل گیٹس ’ایک ایسی جنتر منتر والی گڑیا ہیں جن کے جسم میں ہر قسم کے سازشی نظریات کی سوئیاں چبھوئی جا رہی ہیں۔‘

’چونکہ وہ ہمیشہ سے صحت عامہ کی ایک علامت رہے ہیں، اس لیے اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ہر کوئی بِل گیٹس کو ایک جادو والی گڑیا سمجھ رہا ہے۔‘

روزنامہ نیویارک ٹائمز اور زِگنل لیب کی ایک مشترکہ تحقیق کے مطابق فروری اور اپریل کے درمیانی عرصے میں ٹی وی اور سوشل میڈیا پر 12 لاکھ مرتبہ کورونا وائرس کے بارے میں بات کرتے ہوئے بغیر کسی ثبوت کے اس کا تعلق بِل گیٹس کے ساتھ جوڑا جا چکا ہے۔

ان میں سے اکثر مواد فیس بُک پر مختلف گروپس شائع کرتے رہے، جہاں سے اسے لاکھوں مرتبہ آگے شیئر کیا جاتا رہا ہے۔

فرسٹ ڈرافٹ نیوز کو یہ بھی پتا چلا ہے کہ ٹک ٹاک کی ایپ اب ایسے سازشی نظریات کا نیا گڑھ بنتی جا رہی ہے۔

جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی بی بی سی کی ٹیم نے بھی کچھ ایسی خبروں اور بلند و بانگ دعوؤں کا جائزہ لیا ہے۔

ان میں سے چار دعوے مندرجہ ذیل ہیں:

  • بِل گیٹس اور ان کی اہلیہ کی تنظیم نے افریقہ اور انڈیا میں بچوں پر ویکسین کے تجربے کیے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں بچے مر گئے یا انھیں ایسے زخم آئے جو کبھی ٹھیک نہیں ہوئے۔ فیس بک پر ایک پوسٹ میں یہاں تک کہا گیا کہ انڈیا میں بِل گیٹس کے خلاف مقدمہ بھی چلایا جا رہا ہے۔
  • بِل گیٹس پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے کینیا میں ایک ویکسین متعارف کروائی جس میں مانع حمل مواد بھی شامل تھا۔
  • ’نیو امیریکن میگزین‘ کے فیس بک پیج پر ایک ویڈیو شائع کی گئی جس میں ویکسین اور مانع حمل ادویات کے ذریعے دنیا کی آبادی کم کرنے کے موضوع پر بات کی جا رہی ہے اور اس میں بِل گیٹس کا تعلق چین کی کمیونسٹ پارٹی سے جوڑا جا رہا ہے۔ فروری سے اپریل تک اس ویڈیو کو 6500 سے زائد مرتبہ شیئر کیا گیا اور اسے دو لاکھ مرتبہ دیکھا گیا۔
  • اس دوران یو ٹیوب پر ایک ایسی ویڈیو کو لوگوں نے تقریباً 20 لاکھ مرتبہ دیکھا جس میں بِل گیٹس پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ لوگوں کے جسم میں مائیکروچپ لگوانا چاہتے ہیں۔
  • ’کبھی کبھی ہنسی آتی ہے‘

    جہاں تک کووِڈ 19 کا مقابلہ کرنے کے لیے 30 کروڑ ڈالر مختص کرنے والی تنظیم بِل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا تعلق ہے تو انھوں نے اس عرصے میں جعلی دعوؤں اور الزامات کی حالیہ بوچھاڑ کے جواب میں خاموشی کو ہی مناسب سمجھا ہے۔

    بی بی سی کو بھیجے گئے ایک بیان میں تنظیم کا کہنا تھا کہ ’انٹرنیٹ پر پھیلائے جانے والے سازشی نظریات اور ان سے صحت عامہ کو جو نقصان پہنچ سکتا ہے، ہم اس پر فکرمند ہیں۔‘

    ’ایک ایسے وقت میں جب دنیا کو صحت اور معاشی اعتبار سے ایک ایسے بحران کا سامنا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، ایسے میں یہ بہت پریشانی کی بات ہے کہ کچھ لوگ غلط خبریں پھیلا رہے ہیں جبکہ ہم سب کو مل کر ایسے طریقے تلاش کرنے چاہییں جن سے انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔

    ’اس وقت کرنے کا بہترین کام یہ ہے کہ ہم کووڈ 19 کو پھیلنے سے روکیں اور حقائق کو پھیلائیں۔‘

    بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بل گیٹس نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ انھیں سازشی نظریات کا سردار بنا دیا گیا ہے۔

    ’اس قدر پاگل پن کہ آپ پریشان ہو جائیں۔ اگر ویکسین بن جاتی ہے تو ہم چاہیں گے کہ دنیا کی 80 فیصد آبادی یہ ویکسین استعمال کرے، لیکن اگر لوگوں نے یہ سنا ہو گا کہ یہ سب کچھ ایک جال ہے، اور لوگ ویکسین نہیں لیتے تو یہ بیماری لوگوں کو ہلاک کرتی رہے گی۔‘

    'مجھے کسی حد تک حیرت بھی ہوتی ہے کہ کچھ سازشی نظریات کا نشانہ مجھے بنایا جا رہا ہے۔ ہم تو صرف پیسہ دے رہے ہیں، ہم تو صرف چیک لکھتے ہیں ۔۔۔۔ ہاں اس بارے میں ضرور سوچتے ہیں کہ بچوں کو بیماری سے کیسے محفوظ رکھا جائے، لیکن اس کا مائیکروچپ یا اس قسم کی کسی چیز سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ایسی باتوں کو کبھی کبھی ہنس کر ٹال دینا ہی بہتر ہوتا ہے۔‘

Comments