صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع جنوبی وزیرستان کی پولیس کے مطابق دو کم عمر لڑکیوں کو ایک لیک ہو جانے والی ویڈیو میں موجود مواد کی وجہ سے غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا ہے۔
درج کیے گئے مقدمے کے مطابق علاقہ شام پلین گڑیوم میں 16 اور 18 برس کی دو لڑکیوں کو ان کے چچا زاد بھائی نے فائرنگ کرکے قتل کیا ہے۔
درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں لڑکیاں آپس میں کزن ہیں اور چند دن قبل ان کی ایک وڈیو لیک ہوئی تھی جس میں موجود مواد کی وجہ سے انھیں غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا ہے
ڈسڑکٹ پولیس افسر جنوبی وزیرستان شوکت علی نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کے بارے میں انھیں کچھ اطلاعات ملی تھیں کہ تحصیل شکتو کے علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے جس پر مقامی تھانہ رزمک کو تفتیش اور ضروری کاروائی کا کہا گیا ۔
مقامی تھانے کہ اہلکار ابتدائی تفتیش کے بعد مقدمہ درج کرکے ملزماں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی کارکن گلالئی اسماعیل کے مطابق غیرت کے نام پر قتل ہونے والی لڑکیاں انتہائی کم عمر ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعہ کی بنیاد ایک وڈیو کو بنایا گیا ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کے چہروں پر واضح طور پر خوف ہے۔
’وہ خوف زدہ ہیں اور یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ وڈیو میں موجود ایک لڑکی وڈیو سے بچنے کی کوشش بھی کررہی ہے۔ عملاً ان لڑکیوں کو ہراساں کیا گیا ہے۔
گلالئی اسماعیل کے مطابق وڈیو میں تین لڑکیاں نظر آرہی ہیں جن میں سے دو کو قتل کر دیا گیا ہے البتہ ایک لڑکی ابھی تک زندہ ہے اور غائب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس تیسری لڑکی کو تلاش کرکے اس کی زندگی کو محفوظ بنایا جائے۔
مزید برآں وزیرستان کے رہائشی بادشاہ خان نامی شخص نے اپنی ایک وڈیو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کی ہے جس میں وہ پشتو میں بات کرتے ہوئے لڑکیوں کی ویڈیو کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'ان لڑکیوں کو سزا دی جائے گی اور ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ مزید کسی کو ایسا کرنے کی جرات نہ ہو اور ہماری عزت و آبرو محفوظ رہے۔
ڈسڑکٹ پولیس افسر شوکت علی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر بادشاہ خان نامی شخص کی جانب سے قتل پر اکسانے کے حوالے سے بھی کچھ مواد سامنے آیا ہے مگر اس پر ابھی صرف تفتیش کی جا رہی ہے۔
Comments
Post a Comment