ھارت ہمیشہ افغانستان میں غداروں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے۔ سینئر طالبان لیڈر:: India has always supported traitors in Afghanistan. Senior Taliban leader

واشنگٹن: بھارت ہمیشہ افغانستان میں غداروں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے۔ بھارت کا افغانستان میں کردار ہمیشہ منفی رہا ہے، افغان امن کے معاملے میں بھارت کو ملوث کرنے کے مشورے پر سینئر طالبان لیڈر عباس ستانکزئی کا رد عمل۔ تفصیلات کے مطابق طالبان کے سینئر رہنما عباس ستانکزئی نے بھارت کے افغانستان میں کردار پر انگلی اٹھاتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔
طالبان لیڈر کا کہنا ہے کہ بھارت کا افغانستان میں ہمیشہ منفی کردار رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت ماضی میں افغانستان کے اندر غداروں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں پاکستانی ایلچی اسد خان نے ہفتے کے روز کہا کہ اگر بھارت محسوس کرتا ہے کہ افغان امن کے عمل میں کوئی مدد ہو سکتی ہے تو اسے طالبان کے ساتھ بات کرنی چاہیے، جس کے جواب میں طالبان کے سینئر لیڈر کا اس مشورے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت ہمیشہ افغانستان میں غداروں کو پروان چڑھاتا رہا ہے۔
بھارتی اخبار "دی ہندو" کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا بھی کہنا تھا کہ اگر طالبان اور بھارت کے درمیان کو مشغولیت ہوتی ہے تو اس عمل کو سراہا جانا چاہیے۔
ان تمام تر تجاویز کو طالبان لیڈر نے افغانستان میں بھارت کے منفی کردار اور غداروں کو سپورٹ کرنے کے عمل کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مسترد کر دیا۔
واضح رہے کہ افغانستان میں منگل کے روز دو حملے ہوئے تھے۔ ایک حملہ کابل کے مصروف ترین اسپتال میں جبکہ دوسرا ایک جنازے میں شریک لوگوں پر ہوا تھا۔ اس حوالے سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی جانب سے افغان دارالحکومت کابل میں زچہ و بچہ ہسپتال پر ہوئے حملے کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا گیا۔ امریکی نمائندہ خصوصی کے مطابق کابل زچہ بچہ اسپتال اور ننگر صوبے میں ہونے والے حملوں میں داعش ملوث ہے۔
ان حملوں کا افغان طالبان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ افغان طالبان اور داعش دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ جہاں ایک طرف افغان حکومت نے داعش کیخلاف جنگ لڑی ہے، وہیں افغان طالبان نے بھی دہشت گرد تنظیم کیخلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں حالیہ تشدد کے واقعات نے امن کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حالیہ افغان صورت حال کے تناظر میں وہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کو آگے بڑھانے کے لیے کابل کا دورہ کرنے والے ہیں۔
یہ امر اہم ہے کہ رواں برس انتیس فروری کو طے پانے والی امریکہ طالبان ڈیل کی روشنی میں انٹرا افغان مذاکرات دس مارچ کو شروع ہونے تھے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق خلیل زاد اپنے اگلے دورے میں اسی مذاکراتی سلسلے کو بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔ زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے انٹرا افغان مکالمت کے ساتھ پرتشدد حالات میں کمی لانا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ اب تک کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن مزید پیش رفت کی بھی ضرورت ہے۔
Comments
Post a Comment