آج ہم جس دور سے گذر رہے ہیں اس میں کل کا کوئی پتا نہیں۔ ابھی خوف نے ہمارے ذہن کو جکڑ رکھا ہے اور سماجی رابطوں اور تعلقات سے دور ہم سب اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں تاکہ کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار کو دھیما کر سکیں۔
اس دوران کتابیں ہماری تنہائی کی ساتھی بن رہی ہیں اور ہمیں حقیقت کی دنیا سے دور لے جا کر راحت بخش رہی ہیں۔ اس دوران دنیا میں پھیلنے والی دیگر وباؤں پر لکھی جانے والی کتابیں بھی خوب پڑھی جا رہی ہیں۔
یہ کتابیں ان وباؤں کی ڈائری جیسی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ لوگ ایسی وباؤں سے باہر کیسے نکلے۔
برطانوی مصنف ڈینیئل ڈیفو نے سنہ 1722 میں ایک کتاب لکھی تھی ’اے جنرل آف دی پلیگ ایئر‘ اس میں سنہ 1665 میں لندن میں طاعون کی وبا کے بارے میں تفصیل سے لکھا گیا ہے۔ یہ اس دور کے ہر واقعہ کی تفصیل بتانے جیسی ہے جو کہ کافی کچھ آج کے دور کے کورونا وائرس کی تفصیلات سے ملتا جلتا ہے۔
ڈینیئل ڈیفو کی یہ کتاب سنہ 1664 سے شروع ہوتی ہے جس میں افواہ کا پھیلاؤ شروع ہوتا اور طاعون کی وبا ہالینڈ پر حملہ بول دیتی ہے۔ اس کے تین مہینے بعد یعنی دسمبر 1664 میں لندن میں طاعون کے پہلے مشتبہ مریض کی موت کی خبر ملتی ہے۔ بہار کا موسم آتے آتے لوگوں کی اموات میں زبردست اضافہ ہونے لگتا ہے۔
جولائی کے مہینے میں لوگوں پر نئے ضابطے نافذ ہو جاتے ہیں اور یہ ضابطے بلکل ویسے ہی ہیں جیسے آج چار سو سال بعد ہم پر نافذ کیے گئے ہیں۔ اس وقت بھی لندن میں تمام پب، ریستوران اور تمام تقریبات پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
ڈینیئل ڈیفو لکھتے ہیں کہ لندن کے لوگوں کے لیے سب سے نقصان دہ بات یہ تھی کہ بہت سے لوگ لاپرواہی برت رہے تھے اور گلیوں میں گھومتے تھے سامان خریدنے کے لیے ہجوم جمع ہو جاتا تھا جبکہ انھیں گھروں میں رہنے کے لیے کہا گیا تھا۔
اگست کے مہینے تک طاعون نے خطرناک شکل اختیار کر لی اور اس وبا نے پورے کے پورے خاندان، گاؤں اور شہر نگل لیے تھے۔ آخر کار دسمبر تک اس وبا کا زور کم ہوا تھا۔ حالات بہتر ہونے لگے تھے جب آخری گلی اور آخری محلہ تک اس وبا سے پاک ہوا تو لوگوں نے باہر نکل کر خدا کا شکریہ ادا کیا۔
ڈینیئل ڈیفو کی طرح البرٹ کامو نے بھی اپنی کتاب ’دی پلیگ‘ میں الجیریا میں ’اوروں‘ نام کے شہر میں طاعون کی وبا کا ذکر کیا ہے۔ جو 19ویں صدی میں طاعون کے سبب اجڑ گیا تھا۔
کامو کی تفصیلات میں بھی ہم آج کی تصویر دیکھ سکتے ہیں پہلے تو مقامی رہنماؤں نے اس بیماری کو تسلیم کرنے سے انکار کیا حالانکہ شہروں کی گلیوں میں مرے ہوئے چوہوں کی بھر مار تھی۔ کتاب کے ایک کردار کا کہنا تھا کہ کیا رہنماؤں کو علم نہیں کہ چوہے انسانوں کے لیے کتنے خطرناک ہیں۔
1918 میں ہسپانوی فلو کی وبا نے بھی دنیا کا رنگ روپ بدل دیا تھا جس کی وجہ سے دنیا بھر میں کم از کم پانچ کروڑ لوگ ہلاک ہوئے تھے جبکہ اس سے ٹھیک پہلے پہلی عالمی جنگ میں ایک کروڑ لوگوں نے جان گنوائی تھی لیکن جنگ کے بعد کے حالات کے سبب اس وبا کے اثرات کو چھپا دیا گیا۔
پہلی جنگِ عظیم پر کئی کتابیں لکھی گئیں اور ساتھ ہی ہسپانوی فلو پر بھی بہت سے کتابیں لکھی گئیں۔
سنہ 1939 میں برطانوی مصنف کیتھرین این پورٹر نے اپنے ناول ’پیلے ہورس پیلے رائڈر‘ میں ہسپانوی فلو کے بارے میں لکھا ہے۔ اس ناول کی کردار مرنڈا جب بیمار پڑتی ہے تو اس کا دوست ایڈمنڈ بتاتا ہے کہ یہ کتنا برا دور ہے، دکانیں بند، راستے بند اور گلیاں سنسان ہیں اور رات بھر ایمبیولنس سڑکوں پر دوڑتی رہتی ہیں۔
مرنڈا جب ٹھیک ہو کر باہر نکلتی ہے تو دیکھتی ہے کہ پہلی جنگِ عظیم اور فلو کے سبب دنیا کس قدر بدل چکی ہے۔
سنہ 1963 میں ’دی پیرس ریویو‘ کو ایک انٹرویو میں کیتھرین پورٹر نے کہا تھا کہ ’مجھ میں عجیب طرح کی تبدیلی آ چکی تھی مجھے پھر سے باہر نکل کر لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہنے میں بہت وقت لگا تھا۔‘
اکیسویں صدی کی وبا جیسے 2002 میں سارس اور 2014 میں ایبولہ نے بھی انسانوں اور معیشت کو نقصان پہنچایا تھا۔
مارگریٹ ایڈون نے سنہ 2009 میں ’دی ایئر آف دی فلڈ‘ عنوان کے ناول میں ایک ایسی دنیا کا تصور پیش کیا ہے جس میں ایک وبا کے بعد انسان کم و بیش ختم ہو جاتے ہیں اس میں ایک ایسی وبا کا ذکر ہے جو بغیر پانی والے سیلاب کی مانند آتی ہے اور ہوا کے ساتھ شہر کے شہر تباہ کر دیتی ہے۔
اس وبا کے بعد جو لوگ بچ جاتے ہیں وہ بہت تنہا ہوتے ہیں۔ اس ناول کی ایک کردار رین نام کی ایک رقاصہ ہے وہ اس وبا سے اس لیے بچ جاتی ہے کیونکہ اسے ایک گاہک سے بیماری لگ جاتی ہے اور اسے تنہائی میں رکھا جاتا ہے وہ گھر میں بیٹھے بیٹھے بار بار اپنا نام لکھتی ہے۔
رین کہتی ہے کہ اگر آپ بہت دنوں تک تنہا رہیں تو آپ بھول جاتے ہیں کہ آپ دراصل کون ہیں۔
اس ناول کے کردار ماضی میں بھی جھانک کر دیکھتے ہیں کہ کس طرح قدرتی اور دنیاوی توازن بگڑتا ہے کیونکہ حکمران کمپنیوں نے بائیو انجینیئرنگ کے ذریعے قدرت کے ساتھ چھیڑ خانی کی تھی اور کس طرح ماحولیاتی کارکنوں نے ان کثیرالقومی کمپنیوں کی مخالفت کی تھی۔
کسی بھی وبا پر بننے والے قصے اس لیے دلچسپ ہوتے ہیں کیونکہ انسان مل کر اس کا مقابلہ کرتے ہیں جہاں دشمن کوئی انسان نہیں ہوتا ایسے میں دنیا میں اچھے اور برے کا فرق مٹ جاتا ہے اور ہر کردار کے پاس بچنے کا برابر کا موقع ہوتا ہے اور ایک طرح سے دنیا سوشلسٹ ہو جاتی پے۔
اسی طرح ایملی سینٹ جان منڈیل کے 2014 کے ناول ’سٹیشن الیون‘ کی کہانی ہے جس میں جارجیا نام کے ملک سے ایک وبا اٹھتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے کوئی نیوٹران بم پھٹ گیا ہو اس بیماری میں دنیا کی 99 فیصد آبادی ختم ہو جاتی ہے اس بیماری کی شروعات اس وقت ہوتی ہے جب شیکسپیئر کے ڈرامے کِنگ لیئر کا ایک کردار نبھانے والے شخص کو سٹیج پر ہی دورہ پڑ جاتا ہے۔
اس کے بعد کی کہانی بیس سال بعد کی ہے جب اس شخص کی بیوی سٹیشن الیون نام کی جگہ پر نمودار ہوتی ہے۔سٹیشن الیون کے دیگر بچے ہوئے کردار خالی شاپِنگ مالز اور چھوٹے شہروں میں ڈرامہ سٹیج کرتے ہیں اور گا بجا کر لوگوں کو لطف اندوز کرتے ہیں۔
کئی معنوں میں سٹیشن الیون کی کہانی چودھویں صدی کے برطانوی شاعر چوسر کے مشہور یا بدنام کہے جانے والے ’کینٹربری ٹیلز‘ سے کافی ملتی جلتی ہے۔
چوسر کی لکھی یہ آخری کہانی تھی جسے چودھویں صدی میں یورپ کو برباد کرنے والی بلیک ڈیتھ یا طاعون کی بنیاد پر لکھا گیا تھا۔
ایملی سینٹ جان منڈیل کا کہنا ہے کہ یہ کون طے کرے گا کہ فن کیا ہے یا کس بڑی شخصیت کا رویہ اپنے آپ میں ایک ثقافت ہے جب کوئی وائرس انسانیت پر حملہ کرتا ہے تو پھر نئی تہذیب کی نشو نما کیسے ہوگی۔ پہلے کے فن و ثقافت میں کس طرح کی تبدیلیاں آئیں گی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے آج کے دور اور حالات پر بھی ناولوں کے کردار تیار ہو رہے ہوں گے اور آنے والے وقت میں قصہ گو کس طرح اس وبا کی تفصیل پیش کریں گے اور انسانوں کے درمیان برادری کے جذبے کو کس طرح بیان کریں گے اور ہمارے درمیان موجود جرات مند لوگوں کے بارے میں کس طرح لکھیں گے۔
Comments
Post a Comment